شر پسند

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - شریر، مفسد۔ "ان میں شرپسند عناصر نے شامل ہو کر بے گناہوں کو نہیں مارا۔"      ( ١٩٧٦ء، اردو افسانہ روایت اور مسائل، ٢٩١ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'شر' کے بعد فارسی مصدر 'پسندیدن' سے صیغۂ امر 'پسند' بطور لاحقۂ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٧٦ء کو "اردو افسانہ روایت اور مسائل" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شریر، مفسد۔ "ان میں شرپسند عناصر نے شامل ہو کر بے گناہوں کو نہیں مارا۔"      ( ١٩٧٦ء، اردو افسانہ روایت اور مسائل، ٢٩١ )